تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

Tafsir Ibn Kathir التفسير: البقرة آية 163

١٦٣:٢
والاهكم الاه واحد لا الاه الا هو الرحمان الرحيم ١٦٣
وَإِلَـٰهُكُمْ إِلَـٰهٌۭ وَٰحِدٌۭ ۖ لَّآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلرَّحْمَـٰنُ ٱلرَّحِيمُ ١٦٣
وَإِلَٰهُكُمۡﳉ
إِلَٰهٞﳊ
وَٰحِدٞۖﳋﳌ
لَّآﳍ
إِلَٰهَﳎ
إِلَّاﳏ
هُوَﳐ
ٱلرَّحۡمَٰنُﳑ
ٱلرَّحِيمُﳒ
١٦٣ﳓ
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
اکیلا حکمران ٭٭

یعنی حکمرانی میں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں نہ اس جیسا کوئی ہے وہ واحد اور احد ہے وہ فرد اور صمد ہے اس کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں، وہ رحمٰن اور رحیم ہے، سورۃ فاتحہ کے شروع میں ان دونوں ناموں کی پوری تفسیر گزر چکی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، اسم اعظم ان دو آیتوں میں ہے، ایک یہ آیت «وَإِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ لَّا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَٰنُ الرَّحِيمُ» [ البقرہ: 163] ‏ دوسری آیت «الم اللَّـهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ» [ 3-آل عمران: 1، 2 ] ‏ [سنن ابوداود:1496، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اس کے بعد اس توحید کی دلیل بیان ہو رہی ہے اسے بھی توجہ سے سنئیے فرماتے ہیں۔

صفحہ نمبر599