سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

عبداللہ محمد ابوبکر اور شیخ ناصر خامس تفسیر: الروم آیہ 36

30:36
واذا اذقنا الناس رحمة فرحوا بها وان تصبهم سيية بما قدمت ايديهم اذا هم يقنطون ٣٦
وَإِذَآ أَذَقْنَا ٱلنَّاسَ رَحْمَةًۭ فَرِحُوا۟ بِهَا ۖ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ إِذَا هُمْ يَقْنَطُونَ ٣٦
وَاِذَاۤ
اَذَقْنَا
النَّاسَ
رَحْمَةً
فَرِحُوْا
بِهَا ؕ
وَاِنْ
تُصِبْهُمْ
سَیِّئَةٌ
بِمَا
قَدَّمَتْ
اَیْدِیْهِمْ
اِذَا
هُمْ
یَقْنَطُوْنَ
۟
جب ہم لوگوں کو رحمت کا ذائقہ چکھاتے ہیں تو وہ اس پر پھول جاتے ہیں اور جب ان کے اپنے کیے کرتوتوں سے ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو یکایک وہ مایوس ہونے لگتے ہیں۔1
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
Na tunapowaonjesha watu neema itokayo kwetu ya afya, uzima na mafanikio, wanafurahia hilo furaha ya kiburi na majivuno, na sio furaha ya shukrani. Na yakiwapata wao magonjwa, umasikini, kuogopa na dhiki kwa sababu ya dhambi zao na maasia yao, ghafula wao wanakata tamaa kuwa hayo yatawaondokea. Na hii ni tabia ya wengi wa watu katika hali ya neema na matatizo.